یہ داستان ہوش ربا قصوں ، دردناک واقعات ، مشاہدات اور صبرآزما آزمایشوں پر مبنی ہے سید مرتضی کی یہ نوحہ کہانی انسانیت ، اسلام اور سعودی عرب کا دم بھرنے والے مفاد پرستوں کے لیے لمحہ فکریہ بھی ہے دور حاضر میں ایک طالب علم کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ حیوانی سلوک بحرینی شہنشاہی چہرے کو بے نقاب کرتا ہے ۔ سید کو جھوٹے الزامات میں بے شمار بے گناہ افراد کے ساتھ سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا اپنی کہانی میں انہوں نے لکھا ہے کہ کس طرح پر امن قیادت اور انکے کارکنوں کو تحقیقات کے نام پر چن چن کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا بحرین کی جیلوں میں انہیں حیوانوں سے بھے بدتر زندگی گزارنے پرمجبور کیا گیا بحرین کی جیلوں میں بہیمانہ اور انسانیت سوز تشدد روا رکھا گیا اور مذید لکھا ہے کہ قیدیوں سے تفتیش کے دوران ظالمانہ طریقے آزمائے جاتے انہیں وہاں بجلی کے جھٹکے دیئے جاتے انکے ہاتھ میں ہتھکڑیاں ، پاوں میں بیڑیاں اور آنکھوں پہ کالی پٹی باندھ کر تنگ کوٹھریوں میں کھڑا رکھا جاتا متعدد بے گناہ قیدیوں کو سزاے موت اور اور سزائے عمر قید سنائی جاچکی ہے کچھ قیدی قید کی سزا کاٹ کر عدالتوں سے بری بھی ہوئے ہیں انہی میں سے ایک سید مرتضی بھی ہیں رہائی کے بعد سید نے اپنی آپ بیتی رقم کرکے شہنشایت کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے ۔ اپنی روداد کو سید مرتضی نے اپنی آپ بیتی میں یوں قلمبند کیا ہے کہ پڑھنے والے کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جس میں ٹارچر کی تکلیف دہ داستانیں بھی ہیں اور ملزموں کے بے گناہی کے ثبوت بھی ، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ بحرین کے عقوبت خانوں میں قیدیوں کے ساتھ جو بہیمانہ سلوک کیا گیا وہ غیر متوقع نہیں تھا آل سعود کی ہڈیوں پر پلنے والے آل خلیفہ کی تاریخ خون چکاں واقعات سے بھری ہوئی ہے جس نے کبھی انسانیت کی دہلیز پر قدم ہی نہیں رکھا اس سے کسی انسانی سلوک کا توقع رکھانا آل سعود اور آل خلیفہ کی تاریخ سے عدم واقفیت کی بنا پر ہی ممکن ہے ۔
داستان غم و عزم...ما را در سایت داستان غم و عزم دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 103