سوال
بعض اعتقادی کتابوں میں ملتا ہے کہ امامت کا معیار مفترض الطاعۃ ہوناہے اور ہر رسول یا نبی امام نہیں ہوتا یعنی صرف رسول ہونے کی وجہ سے ان کی اطاعت واجب ہو ، پس رسول صرف رسول ہونے کے اعتبارسے مفترض الطاعۃ نہیں کیونکہ ان کی ذمہ داری صرف کلام الہی لوگوں تک پہنچانا ہے اور وہ خود لوگوں کو امر و نہی نہیں کرتے تاکہ ان کی اطاعت واجب ہو ، لیکن ہم کیسے رسول کے مبلغ احکامِ الٰہی ہونے اور اور مفترض الطاعۃ ہونے کو جدا کرسکتے ہیں؟ کیونکہ عقل حکم دیتی ہے کہ جس شخص کا رابطہ اللہ سے ہو اوروہ احکام الٰہی کو لوگوں تک پہنچاتا ہو اس کی اطاعت واجب ہے وہ لوگ اس آیت سے استدلال کرتے ہیں ( فذکر۔۔۔) لیکن کیا اس آیت میں مخاطب رسول اکرمﷺ نہیں اور آپؐ امام مفترض الطاعۃ ہیں اور صرف نصیحت کرنے والے نہیں ؟ ہاں یہ بات ہے کہ نبی سے یہ تقاضا نہیں کیا گیا کہ آپ لوگوں کو مجبور کریں یہاں تک کہ امام سے بھی یہ تقاضا نہیں تو یہ بات کہاں تک درست ہے ؟ اور یہ استدلال کس حد تک صحیح ہے ؟
داستان غم و عزم...ما را در سایت داستان غم و عزم دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 156