سوال
فقہاء توریہ کے جائز ہونے کا فتوی دیتے ہیں اور جھوٹ کو حرام سمجھتے ہیں۔ کیا یہ مذاق نہیں ہے کیونکہ اس طرح تو ہر جھوٹا شخص اپنے اہداف تک پہنچنے کے لیے جھوٹ بول سکتا ہے؟
جواب
میری ذاتی رائے کے مطابق توریہ تقریبا حرام ہے ، مگر یہ کہ صورت ایسی ہو کہ عرف کہے توریہ ضروری ہے ۔ مشہور فقہاء کا نظریہ اس سے مختلف ہے ، کچھ پرانے فقہاء بھی یہی کہتے تھے اور عصر حاضر کے مرجع دینی سید کاظم حائری کا بھی فتوی ہے کہ توریہ جھوٹ کی طرح حرام ہے۔ ( الحائری ، الفتاوی المنتخبہ ۲۸۹)
داستان غم و عزم...ما را در سایت داستان غم و عزم دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 145