معرفت امام زمانہ

خرید بک لینک

سوال

یہ حدیث ’’من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتۃ الجاھلیۃ‘‘ یعنی جو شخص اپنے زمانہ کے امام کی معرفت کے بغیر مرگیا وہ جاہلیت کی موت مرا ۔ سند اور متن کے اعتبار سے شیعہ سنی کتب میں کہاں تک درست ہے ؟

جواب

شیعہ کتب احادیث میں اس حدیث کی سند کے بہت سے طریقے ہیں ان میں سے بعض صحیح اور معتبر ہیں جس طرح الکافی (جلد ۱ صفحہ ۳۷۷) میں اس حدیث کو معتبراور صحیح سند کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ اہلسنت کی کتابوں میں یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ مذکور ہے ۔ ان میں سے بعض روایات میں مختلف تفسیروں کی گنجائش ہے ۔

متن کے اعتبار سے اس حدیث میں کوئی اشکال نہیں اور یہ تعبیر ’’ میتۃ جاھلیۃ ‘‘ دوسرے مقامات پر بھی وارد ہوئی ہے لیکن جاہلیت کی موت سے یہاں کفر اور ارتداد مراد نہیں جس طرح ہم کہتے ہیں کہ تارک الصلاۃ کافر ہے یہ تعبیر بہت سی روایات میں ہے ۔

اور یہ حدیث کیا ائمۃ طاہرین علیھم السلام کے ساتھ خاص ہے یا اس کا مفھوم وسیع ہے یعنی غیر معصوم افراد کو بھی شامل ہے یعنی یہاں امام سے مراد سیاسی حاکم ہے تو اس صورت میں نبی اکرمﷺ اور اہل بیتؑ اس کے مصداق اکمل ہوں گے تو یہ موضوع طویل ہے کسی اور مناسبت

اس پر تفصیلی بحث کریں گے۔ اگر احادیث اور عقائد کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے تو آپ وہاں دیکھیں گے کہ اکثر بلکہ سب علمائے امامیہ کے نزدیک اس سے مراد صرف ائمہ طاہرین علیھم السلام ہیں جبکہ بہت سے اہل سنت کے نزدیک اس کا مفھوم یہ ہے کہ ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ امام مسلمین کی اطاعت کرے یعنی جو قانونی حاکم ہے اس کی پیروی کی جائے تاکہ معاشرے میں لاقانونیت کا رواج نہ ہو معاشرے میں انارکی نہ پھیلے تو اگر کسی کو قانونی حاکم کی معرفت نہ ہو اور معاشرے میں ایک مرکز اور حکومت نہ ہو تو یہ شخص عصر جاہلیت کی طرف پلٹے گا۔

ان دونوں تفسیروں کی اپنی اپنی دلیلیں ہیں آپ عقائد اور احادیث کی شروح کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔

داستان غم و عزم...

ما را در سایت داستان غم و عزم دنبال می‌کنید

برچسب: نویسنده: بازدید: 188 تاريخ: جمعه 24 خرداد 1398 ساعت: 8:54

صفحه بندی