سوال
بعض لوگ ہر نبی کے امام نہ ہونے پر قصہ طالوت سے استدلال کرتے ہیں کیونکہ طالوت کو خدا نے امام قرار دیا اور معاشرے کی قیادت اور حکومت آپ کے ہاتھ میں آگئی جب کہ آپ کے زمانے کا نبی امام نہ تھا۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے کہ ( وقال لھم ۔۔۔ ) یہ جانتے ہوئے کہ طالوت کا زمانہ حضرت داود علیہ السلام کا زمانہ ہی تھا کیا اس آیہ مبارکہ میں نبی سے مراد حضرت داودؑ کے علاوہ کوئی اور ہے ؟ جبکہ داود علیہ السلام نبی اور حاکم بھی تھے یعنی امام تھے تو ایک ہی زمانے میں دو امام کیسے ہوسکتے ہیں ؟ امید ہے کہ آپ اس کی وضاحت فرمائیں گے کیونکہ میرے لیے یہ مسئلہ واضح نہیں ہوا ۔
داستان غم و عزم...ما را در سایت داستان غم و عزم دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 122