سوال
محرم الحرام کی آمد آمد ہے، عاشورا پھر سے آرہا ہے ۔ ان ایام میں غم کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں کچھ اختلافات بھی سامنے آتے ہیں کیونکہ ہر سال ان ایام میں منبروں پر ، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا (فیس بک وغیرہ) پربعض ایسے مسائل کو اچھالا جاتا ہے جن سے خود مؤمنین کے درمیان اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ بات قطع رحمی ، الزام تراشی ، اور شخصیت کشی تک پہنچ جاتی ہے جو مسائل ان دنوں اٹھائے جاتے ہیں ان میں سے چند ایک یہ ہیں:
زنجیر زنی ، سینہ زنی ، رونا ،رلانا ، ماتم کے دوران جزع وفزع کرنا(بلند گریہ کرنا) صحیح ہے یا نہیں؟
مقتل کی روایات اور واقعات کے مضامین شرعی معیارات کے مطابق ہیں یا نہیں؟
کیا فلان رات حضرت قاسم کی شادی ہوئی تھی؟
کیا امام حسینؑ کے سراقدس نے نوک نیزہ پرقرآن کی تلاوت فرمائی تھی ؟
کیا عاشور کے دن زمین و آسمان نے گریہ کیا تھا ؟
کیا امامؑ کی شھادت کے وقت تمام پتھروں کے نیچے سے خون جاری ہوا تھا ؟
کیا حضرت زہراؑ مجالس عزا میں حاضر ہوتی ہیں ؟
کیا امام بارگاہ کے تمام در و دیوار کو چومنا مستحب ہے؟
کیا ماتم کے دوران نکلنے والے ماتمی کے پسینے کو مسح کرنامستحب ہے ؟ اور اس قسم کےدیگر بہت سے سوالات۔۔۔
تو سوال یہ ہے کہ ان امور سے ہم کیسے نمٹیں؟ علماء کے درمیان ان اختلافات اور اجتھادات کی روشنی میں ہم کس طرح منبر حسینیؑ کی حفاظت کریں ؟ اور منبر حسینی کو فقط شیعی منبر کے طور پر پیش کرنے کے بجائے کس طرح ایک اسلامی منبر کے طور پر پیش کریں؟ کیا بہتر نہیں کہ ہم ان تمام مسائل پر خاموشی اختیار کریں اور ان کو زیادہ نہ اچھالیں؟ کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان مسائل میں پڑھنے سے اشتعال کی آگ اور بھڑک اٹھتی ہے اور ان لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا ہے جو لوگ ان امور کو انجام دیتے ہیں؟ اور بعض کا کہنا ہے کہ ہم واقعہ عاشوراء کی تاریخ میں اس طرح دقت کریں جس طرح شھید مطھری نے فقہی معیارات پر اس کو پرکھا تھا ، جبکہ اس صورت میں واقعہ عاشورا سے کچھ بھی نہیں بچے گا اور لوگ بھی ان واقعات سے اس طرح متاثر نہیں ہوں گے کہ جس طرح آج ہوتے ہیں۔ تواس بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟
داستان غم و عزم...ما را در سایت داستان غم و عزم دنبال میکنید
برچسب: نویسنده: بازدید: 160